Monday, May 11, 2015

MQM wants that Governer Sindh should be Resign ایم کیو ایم کا گورنر سندھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ




اس سے پہلے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین بھی گورنر عشرت العباد سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں

متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگی، گرفتاریوں اور تشدد روکنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2008 میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ہلاک کیا گیا لیکن گورنر سندھ آزادی سے گھومتے پھرتے رہے، مہاجر بستیوں پر حملے ہوتے رہے لیکن ڈاکٹر عشرت العباد انھیں رکوانے میں ناکام رہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 کے انتخابات کے بعد قیام امن کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ ہوا وہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے نامزد گورنر تھے جب یہ آپریشن اپنے مقاصد سے انحراف کر رہا ہے تھا تو ایم کیو ایم نے ان کی توجہ اس طرح کرائی لیکن انھوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔
’شاباش ہے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو انھوں نے اف تک نہیں کی، ہم نے غیر مشروط طور پر آپریشن کی حمایت کی جس کے پاداش میں ہمیں ہی سب سے زیادہ مشکوک سمجھا گیا، ہماری صفوں میں ہر بدامنی اور ہر جرم کا ملزم تلاش کیا گیا اور اس کو مجرم بھی قرار دے دیا گیا اس کے باوجود بھی ہم خاموش رہے۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق ہوا اس کے بعد بار بار وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ سے مطالبات کرتے رہے اور یہ مطالبات گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے سامنے ہوتے رہے انہیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد اس سلسلے میں بھی اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کارکنوں کے ماروائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں وحشیانہ تشدد کے تمام واقعات گورنر عشرت العباد کے سامنے تھے اس کی طرف ڈاکٹر عشرت العباد ان مظالم کو بھی رکوانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کو طعنے ملتے رہے ہیں کہ گورنر تو آپ کا ہے، اب ہم کس لیے یہ طعنہ سہتے رہے ہیں ایک سیری مینوئل گورنر رکھنے کا ہم کو شوق نہیں تھا۔‘
یاد رہے کہ اس سے پہلے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین بھی گورنر عشرت العباد سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں، 22 اپریل کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کارکنوں کو ہدایت کی تھی کہ ڈاکٹر عشرت العباد سے اب کوئی بھی امید نہ رکھے۔





این اے 125 میں انتخاب کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطلDecion on NA 125 Election Tribunal Supreme Court


الیکشن ٹریبیونل نے حلقہ این اے 125 میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا



پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 سے متعلق الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے الیکشن ٹریبیونل نے چار مئی کو لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں دھاندلی کے الزامات ثابت ہونے پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا تھا۔ ٹریبیونل نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ حلقے میںدو ماہ کے اندر اندر دوبارہ انتخاب کروائے جائیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پیر کو عدالتِ عظمٰی نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر اس نشست کے لیے کامیابی حاصل کرنے والے وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق کی درخواست کی سماعت کی جس میں انھوں نے ٹریبیونل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
اپیل کی سماعت کرنے والے بینچ کی سربراہی جسٹس انور ظہیر جمالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔
سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبیونل کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے الیکشن ٹریبیونل سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ انھیں پی ٹی آئی کے رہنما حامد خان کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ این اے 155 سے متعلق الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو بھی معطل کر دیا ہے۔

I have No picture of My Mother at World Mother,s Day میرے پاس ماں کی تصویر نہیں وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


جس طرح امریکہ کروڑوں برس سے ہے لیکن جب کولمبس نے اسے دریافت کیا تب امریکہ کی قدر شروع ہوئی۔ جس طرح نصرت فتح علی خان 40 برس پی ٹی وی پر اپنا جادو جگاتا رہا مگر اکثر ناظرین اسے رات 10 سے 11 بجے والا قوال سمجھ کر کبھی نہ سمجھ پائے۔ اور پھر ایک روز پیٹر گیبریل نے نصرت کو ایسا دریافت کیا کہ نصرت فیشن ہوگیا۔
بالکل اسی طرح ماں کے ساتھ بھی ہوا۔ ویسے تو ماں نے مجھے جنم دیا، پال پوس کے بڑا کیا اور ہمیشہ اپنی دعاؤں کے حصار میں رکھا۔ لیکن کل سوشل میڈیا پر جا کے پہلی بار ماں کے دریافت ہونے کا احساس ہوا۔ ماں چوبیس گھنٹے تک پوری آب و تاب کے ساتھ سائبر اسکرین پر فیشن میں رہی اور آج دوبارہ روائتی استھان پر آ گئی۔ اب اگلا مدرز ڈے آئے گا تو دیکھیں گے۔ کٹ پیسٹ، فارورڈ اور ٹیگ کریں گے، ماں تجھے سلام لکھیں گے۔
میں کل سے سوچ رہا ہوں کہ ماؤں کو واقعی مدرز ڈے کی ضرورت ہے یا پھر ہمارا اپنا کوئی لاشعوری احساسِ ندامت ہمیں الگ سے مدرز ڈے منانے پر اکساتا ہے۔ حالانکہ ہم چاہیں تو روزانہ بغیر اعلان کے مدرز ڈے منا سکتے ہیں۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرا کر، حال پوچھ کر، حال سنا کر، ہاتھ بٹا کر، کچھ دیر پاس بیٹھ کر، گود میں سر رکھ کر، اسے بغیر جتائے اہم بنا کر ۔۔ تو کیا یہ بہت مشکل ہے ؟؟
لیکن کبھی کسی ماں کو کسی نے الگ سے چلڈرنز ڈے مناتے دیکھا ؟ مائیں مرتے دم تک اس کے علاوہ بہانے بہانے سے اور کیا کرتی ہیں ؟
بقول عبید اللہ علیم الگ سے دن منانا یقیناً اچھا عمل ہے مگر یہ اچھائی صنعتی معاشروں کی مجبوری سے پیدا ہوئی ہے جس نے خاندان کو جبرِ معاش کے سبب بکھیر کے رکھ دیا۔ شام کو ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے والا دسترخوان لپٹوا دیا، خونی رشتوں کو شمال، جنوب، شرق و غرب کی جانب دھکیل دیا۔ لیکن جن سماجوں میں آج بھی بہن بھائی، والدین اور بچے ہاتھ بھر کے فاصلے پر ہیں یا اگر نہیں بھی ہیں تو مواصلاتی انقلاب کے سبب فاصلوں کو فتح کر چکے ہیں وہ چاہیں تو روزانہ کوئی سا بھی ڈے منا سکتے ہیں۔ بس ماں یا باپ کو آواز ہی تو سنانی ہے ، تصویر ہی تو دکھانی ہے۔ کیسی ہو ماں ہی تو کہنا ہے ؟ اور اس کے بدلے ڈھیر ساری دعائیں ہی تو ملیں گی۔ بس ہوگیا مدرز ڈے ، فیملی ڈے ، ہیپی ڈے۔۔۔
مگر ہائے ری مارکیٹنگ ۔۔کل مجھے ایک بھی تصویر نہیں ملی ماں کے ساتھ کھنچوائی ہوئی۔ لیکن اب سوچ رہا ہوں کہ کھنچوا ہی لوں۔۔ماں کو تو خیر کیا فرق پڑے گا ۔۔مگر دنیا کو ضرور پڑے گا۔۔۔آفٹر آل آئی ایم ناٹ دیٹ مچ آؤٹ آف فیشن ۔۔۔۔
ویسے کل کس کس نے اپنی کام والیوں کو ایک دن کی نہ سہی آدھے دن کی چھٹی دی تاکہ ان کے بچے بھی مدرز ڈے منا لیں ؟؟؟؟
ہاں الگ سے ایک مدرز ڈے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس قدر مصروف ہیں کہ لاف آؤٹ لاؤڈر ایل او ایل میں اور ریسٹ ان پیس بھی آر آئی پی کے ڈبے میں پیک کر چکے ہیں۔
ارے اچھا یاد آیا ۔۔گھر میں ایک اور صاحب بھی تو رہتے ہیں ابا ابا نام کے۔ سنا ہے بھلے سے آدمی ہیں ۔۔۔ذرا معلوم تو کرنا ان کا یوم کب ہے۔۔۔




Saudi king Excuse to attend the Meeting of Obama from USA سعودی بادشاہ نے اوباما کی دعوت میں شرکت سے معذرت کر لی






سعودی عرب کے نئے بادشاہ شاہ سلمان بِن عبدالعزیز نے امریکی صدر براک اوباما کی میزبانی میں آئندہ جمعرات کو بلائے گئے خلیجی ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ نے 17 اپریل کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، قطر اور عمان کے سربراہان کا 13 مئی کو وائٹ ہاؤسں اور 14 مئی کو کیمپ ڈیوڈ میں خیرمقدم کیا جائے گا۔
بتایا گیا کہ اجلاس کا مقصد دو طرفہ اور سکیورٹی امور میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کرنا ہے۔

اتوار کو امریکہ میں سعودی سفارت خانے سے وزیرِ خارجہ عادل بن الجبیر کا بیان جاری کیا گیا۔ جس کے مطابق صدر اوباما کی دعوت پر بلوائے جانے والے اجلاس میں نئے ولی عہد شہزادہ محمد بِن نائف سعودی عرب کی نمائندگی کریں گے۔ ان کے ساتھ نائب ولی عہد اور وزیرِ داخلہ بھی موجود ہوں گے۔
سعودی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز خلیجی ممالک کے اجلاس کی ٹائمنگ کی وجہ سے اس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
تحریری بیان میں شاہ سلمان کی پہلے سے طے شدہ مصروفیات کا ذکر بھی کیا گیا اور بتایا گیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر یمن میں جنگ بندی متوقع ہے اور ’ کنگ سلمان سینٹر فار ہیومینیٹیرین ایڈ‘ کا افتتاح بھی ہونا ہے۔

امریکی منصوبہ کمزور

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق براک اوباما کا منصوبہ کمزور دکھائی دیتا ہے کیونکہ ابھی صرف خلیجی ممالک کے دو سربراہان نے ہی اس اجلاس میں شرکت پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس سے پہلے امید ظاہر کی تھی ہے کہ سعودی بادشاہ خود اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
دوسری جانب اتوار کو ہی معلوم ہوا کہ بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسٰی الخلیفہ بھی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں اور ان کی جگہ ان کے ولی عہد جائیں گے۔
اس صورتحال سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صدر اوباما صرف کویت اور قطر کے سربراہان سے ملاقات کر سکیں گے۔
وائٹ ہاؤس کو امید تھی کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے بارے میں خلیجی ممالک کے خدشات کو دور کیا جا سکے گا۔
خیال رہے کہ امریکہ سمیت چھ ممالک اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ جون میں متوقع ہے۔
تہران سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود رکھے گا جس کے بدلے میں اس پر عائد عالمی پابندیاں ہٹا دی جائیں گی اور اسے کئی کھرب ڈالر کے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
تاہم خلیجی ممالک کو خطرہ ہے کہ ایران اس پیسے کو ہتھاروں کے لیے ہی استعمال کرے گا اور خطے میں موجود شیعہ پراکسی گروہوں کی حمایت پر لگائے گا۔
توقع کی جارہی ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ طے شدہ اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ یمن، عراق، شام کی صورتحال بھی زیرِ غور آئے گی۔

Bolly wood star Ranbeer kapoor and Famous Actress Katreena kaif got married دوستی، محبت اور اب شادی




بالآخر بالی وڈ اداکار رنبیر کپور نے معروف اداکارہ قطرینہ کیف کے ساتھ اپنی شادی کی بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
اور اب تقریباً چار سال سے جاری ان کی دوستی پروان چڑھتے چڑھتے شادی کے مرحلے تک پہنچ رہی ہے۔
ایک بھارتی اخبار کو دیے جانے والے انٹرویو میں رنبیر کپور نے شادی کی بات تسلیم کی جس سے اب یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ان دونوں کی شادی کے بارے میں ہونے والی قیاس آرائیوں میں کمی واقع ہو جائے گي۔
رنبیر کپور نے آنند بازار پتریکا نامی اخبار میں شائع اپنے انٹرویو میں کہا: ’اس سال ہم دونوں بہت مشغول ہیں تو شادی کے لیے وقت نہیں نکل پائے گا۔ لیکن ہم نے اگلے سال کے آخر تک شادی کے رشتے میں بندھنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہم دونوں اس پر راضی ہیں۔

رنبیر نے مزید کہا: ’اب ہم دونوں تیار ہیں اور اگر ہم اب بھی اس رشتے کو قبول نہیں کریں گے تو یہ اس رشتے کی توہین ہوگی۔‘
رنبیر نے کہا: ’میں 33 سال کا ہوں اور یہ شادی کی صحیح عمر ہے، ہاں گپ شپ میں کیا کہا جاتا ہے اس سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے۔‘
رنبیر نے بتایا کہ یہ دونوں کے لیے ایک بڑا فیصلہ ہے جسے وہ خوب سوچ سمجھ کے لینا چاہتے تھے۔
حال ہی میں رنبیر اور کیٹ نے ممبئی کے باندرا کے علاقے میں ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا جس سے ان دونوں کی شادی کے بارے میں قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں۔


In the Ragniti Film
جبکہ گذشتہ دنوں رنبیر نے قطرینہ کیف کو اپنے اہل خانہ سے ایک ریستوراں میں ڈنر پر ملوایا تھا اور اس کی تصویریں بھارتی اخباروں کی زینت بنی تھیں۔
دونوں نے ایک ساتھ اب تک تین فلمیں کی ہیں۔ پہلی فلم ’عجب پریم کی غضب کہانی‘ سنہ 2009 میں آئی تھی۔ اس کے بعد دونوں نے ’راجنیتی‘ میں ساتھ کام کیا اور پھر ’بامبے ٹاکیز‘ میں ساتھ نظر آئے۔









’اس تھپڑ کی گونج پوری زندگی سنائی دے گی‘



ھپڑ کی گونج بھی ہو سکتی ہے یہ ہمیں سب سے پہلے بتایا ڈاکٹر ڈینگ نے۔ سنہ 1986 میں سبھاش گھئی کی فلم ’کرما‘ میں جب دلیپ کمار کے تھپڑ کا جواب انوپم كھیر نے کچھ یوں دیا ’ڈاکٹر ڈینگ کو آج پہلی بار کسی نے تھپڑ مارا ہے ۔۔۔ فرسٹ ٹائم ۔۔۔ اس تھپڑ کی گونج سنی تم نے ۔۔۔ اس گونج کی گونج تمہیں سنائی دے گی ۔۔۔ پوری زندگی سنائی دے گی‘۔
بچپن میں شاید ہی کوئی ہفتہ گزرتا تھا جب تھپڑ نہ پڑا ہو۔ گھر میں، سکول میں، سکول سے واپس آکر پھر سے گھر میں ۔۔۔ سلسلہ چلتا ہی رہتا تھا اور بیچ بیچ میں نصیحت بھی مل جاتی تھی ’بیٹا یہ تمہارے بھلے کے لیے کر رہے ہیں!‘
اب کیوں پڑتے تھے یہ تھپڑ وہ رہنے دیں!
لیکن ڈاکٹر ڈینگ کو سننے کے بد افسوس اس بات کا رہا کہ ان ہفتہ وار تھپپڑوں میں مجھے گونج کبھی نہیں سنائی دی یا پھرشاید سننا نہیں آتا تھا۔
زندگی فاسٹ فارورڈ ہوئی، 24/7 میڈیا کا زمانہ آیا اور پھر اچانک سے تھپڑوں کی گونج سنائی دینے لگی۔ خوش قسمت رہا کہ یہ تھپڑ دوسرے کے گالوں پر پڑ رہے تھے۔
سیاسی تھپڑ، رومانٹک تھپڑ، سڑك چھاپ تھپڑ، بلبل پانڈے کاتھپڑ سب کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔
ایک ٹی وی رپورٹر کو ایک سیاسی لیڈر نے تھپڑ مارا، گونج دورتک گئی (آج وہ رپورٹر عام آدمی پارٹی کے لیڈر ہیں)۔ کیجریوال صاحب کو آٹو والے نے تھپڑ رسيد کر دیا، سوشل میڈیا کےزمانے میں گونج پورے ملک میں پھیلی، آج وہ دہلی کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ شرد پوار ہوں، اوما بھارتی ہوں، میکا ہوں، راکھی ساونت ہوں تھپڑ کھانے والے اور لگانے والے تمام اس گونج کے قائل رہے ہیں۔
لیکن گزشتہ ہفتے امریکہ کے بالٹيمور شہر میں، جہاں سياہ فام نوجوان پولیس کی زیادتیوں کے خلاف ہنگامہ کر رہے تھے، دکانوں کو لوٹ رہے تھے، ایک ماں نے اپنے بیٹے کو جو تھپڑ مارا وہ صحیح معنوں میں ’تھپڑ آف دی سنچری‘ کہلائے گا۔
صاحبزادے سکول سے لوٹتے ہوئے ہوڈي پہن کر، چہرے پر نقاب لگائے پولیس اور دکانوں پر پتھر برسا رہے تھےآ تبھی ان کی ماں کی نظر ان پر پڑ گئی۔ ماں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، تھپڑ لگاتے ہوئےگھسیٹتے ہوئے گھر لے گئی اور ینگ اینگري مین دم دبائے ماں کے ساتھ ہو لیا۔
لیکن اس تھپڑ کو صرف بالٹيمور نے نہیں، ٹی وی پر پوری دنیانے دیکھا۔ آخر امریکہ ہے بھائی، چھوٹی سی بات بھی ہو تو پوری دنیا دیکھتی ہے اور اس کی گونج ایسی کہ ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔
ٹی وی چینلز ماں اور بیٹے دونوں ہی کو بار بار کیمرے پر بلا رہے ہیں۔ کئی بار سوال بھی اپنے دیسی میڈیا والی سٹائل میں ہی پوچھ رہے ہیں ۔۔۔ ’جب آپ نے تھپڑ مارا تو کیسا لگا، جب آپ کوتھپپڑ لگا تو کیسا لگا‘، وغیرہ وغیرہ۔
سفید فام دائیں بازو والے طبقے کے لیے تو یہ يوریكا مومنٹ تھا یعنی ان کی نظر میں ایک تھپڑ نے کالوں کی حالت بہتر کرنےکا حل نکال دیا۔ یہ امریکی ایک آواز میں اس کی ماں کو ’موم آف دی ايئر‘ کا خطاب دینے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ آخر کیوں؟
کیونکہ ان کی مانیں تو خرابی سفید لوگوں یا پولیس میں نہیں ہے، نسل پرستی نام كي کوئی چڑیا ہے ہی نہیں، تمام برائیوں کی جڑ سياہ فام قوم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ساری مائیں ایسی ہو جائیں تو امریکہ سے جرم ختم ہو جائے گا، سیاہ نوجوان راستے پر آ جائیں گے اور پولیس کو سختی کرنی ہی نہیں پڑےگی۔
ریپبلكن پارٹی کی طرف سے صدارتي امیدواروں میں سے ایک ٹیڈ كروز کا بیان ہے کہ سیاہ فام نوجوانوں کے ساتھ یہ سب باتیں اس لیے ہوتی ہیں کیونکہ ان کے گھر میں باپ نہیں ہوتے، سنگل مدرز یعنی مرد کے بغیر گھر چلانے والي خواتين ان پر نظرنہیں رکھ پاتی ہیں۔
اب ٹیڈ کروز صاحب سے کون کہے کہ ان علاقوں میں زیادہ تر مرد جوانی میں قدم رکھتے ہی چھوٹے چھوٹے جرم کے لیے بھی جیل میں بند کر دیے جاتے ہیں اور ایک بار اندر گئے تو پھرسلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ انہیں جرائم کے لیے سفید فام نوجوان کو پولیس ڈانٹ کر یا پھر ’جوانی میں ہم سب نےایسا کیا ہے‘ کہہ کر چھوڑ دیتی ہے۔
سفید فاموں میں بائیں بازو والا طبقہ یا پھر اعتدال پسند طبقہ، جو سياہ فام قوم کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتا ہے، حکومت کی ذمہ داری کی بات کرتا ہے۔ وہ نسل پرستی کی بات کرتا ہے اور یہ طبقہ منقسم ہے کہ تھپڑ مارنا درست تھا یا نہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ بچّے کو اس طرح سب کے سامنے ذلیل نہیں کرناچاہیے تھا، نہ جانے اس پر کیا اثر پڑے گا۔
اب اثر جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ اس نوجوان کو ڈاکٹر ڈینگ کےلفظوں میں ’اس تھپڑ کی گونج پوری زندگی سنائی دے گی‘۔

حنوط شدہ مصری لاشوں کا سکینڈل فاش

حنوط شدہ مصری لاشوں کا سکینڈل فاش

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے قدیم مصر کے جانوروں کی حنوط شدہ لاش تیار کرنے کی صنعت کے سکینڈل کا راز فاش کر دیا ہے۔
مانچسٹر میوزیم اور مانچسٹر یونیورسٹی میں کیے جانے والے سکیننگ پروگرام میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً ایک تہائی کپڑے کے بنڈل اندر سے خالی ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ قدیم مصری سماج میں اس مذہبی نذرانے کا بہت زیادہ مطالبہ رہا ہوگا اور ممی کی مانگ فراہمی سے زیادہ ہو گئی ہوگی۔
قدیم مصر کی ممیوں پر ریسرچ کرنے والی ٹیم اپنی نوعیت کا وسیع ترین سکیننگ پروجیکٹ چلا رہی ہے۔
اس کے تحت ابھی تک 800 سے زیادہ جانوروں کی حنوط شدہ لاش کا ایکسرے اور سٹی سکین کیا جا چکا ہے جن میں بلیوں اور پرندوں سے لے کر گھڑیال تک شامل ہیں۔
ابھی تک جتنے جانوروں کی حنوط شدہ لاشوں کا سکین کیا گیا ہے ان میں سے ایک تہائی مکمل جانور ہیں اور انھیں بہت اچھی طرح محفوظ کیا گیا ہے۔
 


مانچسٹر یونیورسٹی کے مصری مطالعات کی ماہر ڈاکٹر لیڈیجا میک نائٹ کا کہنا ہے ’اس میں حیرت کا عنصر ہے۔ ہمیں سدا سے یہ معلوم تھا کہ تمام ممیوں میں وہ نہیں ہے جس کی ہمیں توقع ہے لیکن ہمیں ایک تہائی میں کسی جانور کے باقیات نہیں ملے یعنی کوئی ڈھانچہ نہیں ملا۔‘
انھوں نے بتایا کہ جانوروں کے باقیات کے بجائے کپڑوں کو دوسری چیزوں سے بھرا گیا تھا۔
’بنیادی طور پر ان میں مٹی، چھڑی اور سرکنڈے وغیرہ تھیں جو کہ عام طور پر ممی بنانے والے کارخانے کے پاس دستیاب ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ انڈوں کے چھلکے، پرندوں کے پر وغیرہ تھے جو کہ جانوروں سے تعلق تو رکھتے ہیں لیکن اپنے آپ میں جانور نہیں ہیں۔‘
خیال رہے کہ انسانی لاشوں کو اس لیے ممی بنایا جاتا تھا کیونکہ اس کا تعلق دوسری یا آخروی زندگی سے تھا جبکہ جانوروں کی ممیاں مذہبی نذرانے کے لیے ہوا کرتی تھیں۔
مانچسٹر میوزیم میں مصر اور سوڈان کے کیوریٹر ڈاکٹر کیمبل پرائس نے بتایا: ’ہمیں معلوم ہے کہ مصری جانوروں کے روپ میں خدا کی پوجا کرتے تھے اور جانوروں کی ممی کسی نہ کسی روپ میں دیوتاؤں کی دنیا سے تعلق پیدا کرتی تھی۔‘
اس میوزیم میں جانوروں کی ممیوں کی اکتوبر میں نمائش ہونے والی ہے۔
انھوں نے بتایا: ’جانوروں کی ممی عقیدت مندانہ نذرانہ ہوا کرتا تھا۔ آج اگر چرچ میں موم بتی جلائی جاتی ہے اسی طرح قدیم مصر میں حنوط شدہ جانور ہوا کرتے تھے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ آپ کسی مخصوص مقام پر گئے، وہاں سے لین دین کی بنیاد پر جانور کی ممی خریدی پھر آپ نے اسے کسی پجاری کو دیا جو کہ ایک قسم کے جانوروں کو اکٹھا دفن کردیا کرتا تھا۔

 

کھدائی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس قسم کے متبرک نذرانے کا بہت مطالبہ تھا۔
مصر میں تقریباً 30 بڑے جانوروں کے مزار ملے ہیں جن میں فرش سے چھت تک لاکھوں ممیاں تھیں۔ ہر ایک مزار ایک ہی قسم کے جانور کے لیے تھا۔ یعنی اگر کتے کا مزار ہے تو اس میں کتے ہی ہیں اور بلی کا مزار ہے تو اس میں بلیاں ہی ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ تقریباً سات کروڑ جانوروں کو مصریوں نے مومی جامہ پہنایا ہوگا۔
ڈاکٹر پرائس کا کہنا ہے کہ 800 قبل مسیح اور عہدِ روما کے دوران مصر میں سب سے زیادہ ممی بنانے کا دور رہا ہے۔
بہر حال جزوی یا مکمل طور پر خالی جانوروں کی ممیاں دھوکہ نہیں تھیں اور زائرین کو اس بات کا علم رہا ہوگا کہ وہ مکمل جانور نہیں خرید رہے ہیں۔